top of page

*اعتکاف کا مقصد حضورِحق کی کیفیت کو پانا ہے*۔ تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان

اعتکاف کا مقصد حضورِحق کی کیفیت کو پانا ہے

تحریر:۔ مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ

رمضان کا ماہ مبارک بے پناہ برکتوں کا حامل ہے کوئی دل سے توبہ کرنا چاہے تو زندگی کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بلکہ گناہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں جیسا کہ اللہ کریم خود فرماتا ہے الفرقان آیت 70 وہ ایسا کریم ہے کہ توبہ کرنے سے بندوں کے گناہ ہی معاف نہیں کرتا ان جرائم کے بدلے نیکیاں عطا کر دیتا ہے۔رمضان کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا مغفرت اور تیسراہے ہی جہنم سے آزادی پانے کا۔اس عشرے میں اعتکاف نصیب ہو جائے تویہ اللہ کی عطا ہے اور اس افراتفری کے عہد میں جہاں بے شمار لوگ رمضان کے آنے کے باوجود غیر ضروری دنیاوی امورمیں اللہ کو بھلائے بیٹھے ہیں، سیاست کی ریشہ دوانیوں میں مشغول ہیں،فتنہ وفساد کی آگ میں گھرے ہوئے ہیں،نہ انہیں اللہ یاد ہے، نہ عاقبت۔ان حالات میں اللہ نے کسی کو اعتکاف کی توفیق دے دی ہے تو یہ اللہ کا احسان عظیم ہے کہ رمضان کا برکت والا مہینہ بھی ہے اس کا آخری عشرہ بھی ہے اور اس میں معتکف ہونے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ہے تو یاد رہنا چاہیے کہ یہ گنتی کے نو یا دس دن ہیں،ان کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہو، اعتکاف کا حاصل یہ ہے کہ زبان کھلے تو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات ہی زبان سے نکلے،کوئی غیر ضروری بات زبان پہ نہ آئے، جس کا اعتکاف قبول ہو جائے تو یہ بات اسکی زندگی کا اصول بن جاتی ہے۔ وہ اس دس روزہ کورس سے تربیت حاصل کر کے جب واپس دنیا کے میدان عمل میں جاتا ہے تو اس کے پاس یہ قوت رہتی ہے کہ اسے اپنی زبان اوراپنے اعمال کی کس طرح حفاظت کرنا ہے؟ کس طرح چوکس رہنا ہے کہ غیر ضروری باتوں اور افکار سے خود کو محفوظ رکھنا ہے؟ اپنے دل کو کس طرح اللہ کی یاد میں محو رکھنا ہے؟ اور کس طرح سے اپنی منزل کو پانا ہے؟

اعتکاف نبی کریم ﷺ کی بہت ہی پسندیدہ سنت ہے۔آپ ﷺ اعتکاف میں جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن حکیم کا دورہ فرماتے۔سب سے زیادہ مصروفیت جو اعتکاف میں رسول اللہ ﷺ کی ہوتی تھی وہ قرآن حکیم کا دور فرمایا جاتا تھا۔سنت اعتکاف بیس رمضان المبارک کی افطار سے شروع ہوتا ہے اور شوال کے چاند نظر آنے پر ختم ہوتا ہے۔نفل اعتکاف کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں جتنا وقت کسی کے پاس ہو اتنے وقت کے لئے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں رک سکتا ہے۔جب بھی مسجد میں بیٹھنے کی فرصت ملے، اعتکاف کی نیت کی جا سکتی ہے۔اس کے لئے رمضان ہی ضروری نہیں ہے غیر رمضان میں بھی کی جا سکتی ہے۔اعتکاف سنت ہو یا نفل دونوں کا مقصد متوجہ الی اللہ ہونا ہے۔

انسان کا مزاج ایسا ہے کہ اس کے لئے بڑا مشکل ہے کہ یہ محض مان کر بیٹھ رہے۔ اللہ جل شانہ‘ سامنے ہوتے تو شاید کوئی سانس بھی نہ لیتا اور بت بنا بیٹھا رہتا،پلک بھی نہ جھپکتا،ٹک ٹک دیکھتا رہتا لیکن یہ دیکھنے والے خاموش رہنے والے کا کمال تو نہ ہوتا۔ اُس کی ذات ہی ایسی ہے،امتحان تو یہی ہے کہ جب اللہ نے کہہ دیا۔اللہ کے نبیﷺ نے اللہ کی بات تم تک پہنچا دی کہ اللہ تمہارے پاس موجود ہوں، تم اللہ کودیکھو،تم اللہ کی بات سنو۔اب اس بات کو مان کر بیٹھو کہ اللہ میرے سامنے ہے اگرچہ یہ مشکل ہے تو یہی آزمائش ہے!

؎ ہو دیکھنے کا شوق تو آنکھوں کو بند کر

ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی

اعتکاف سے غرض یہ ہے کہ آدمی اموردنیا سے لاتعلق ہو کراور کلی طور پر یکسو ہو کر متوجہ الی اللہ ہو جائے۔ان مخصوص دنوں میں دنیا کے جھمیلوں اوردنیاوی فکروں سے آزاد ہوجائے۔ فلاں کام کا کیاہو گا؟فلاں جگہ کیا ہو رہا ہو؟یہ چیزیں ذہن سے نکال کر اللہ کی طرف دھیان لگالے۔اعتکاف میں ضروری ہے کہ بندہ غیر ضروری باتیں نہ کرے ضرورت کی با ت کی جا سکتی ہے۔لیکن دنیاوی گپ شپ نہیں ہو سکتی۔دین کی باتیں کرنا مسائل سمجھنا، سمجھانا، تلاوت کرنا، دینی کتابیں پڑھنا، یہ سب اچھی باتیں ہیں یہ جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہیں بالکل خاموش رہنا مکروہ ہے۔ ضرورت کے کام بھی لکھ لکھ کر کروانا پسندیدہ نہیں۔ قرآن حکیم پڑھیں،درورد شریف پڑھیں، ذکر اذکار کریں،پوری احتیاط،پوری توجہ سے محنت کیجئے،دین سیکھنے اور سکھانے کی بات کریں،اللہ کی بات اللہ کے حبیب ﷺ کی بات سارا دن کرتے رہیں اس لئے کہ دین کی باتیں متوجہ الی اللہ کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ توجہ الی اللہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتیں، رکاوٹ نہیں بنتیں۔لیکن دنیا کی بات دنیا کی طرف متوجہ کرتی ہے اور جو توجہ ذات باری کی طرف ہے اسے کم کرتی ہے لہٰذا نقصان دہ ہے۔ مسجد میں دنیووی باتیں کرنا،کاروبار،خرید وفرخت کرنا، گپ شپ لگانا،تفریح طبع کے لئے باتیں کرنایہ ساری چیزیں مسجد میں ویسے ہی حرام ہیں۔مسجد ایک مخصوص جگہ ہے جہاں صرف اللہ کریم کی بارگاہ میں گزارشات پیش کی جاتی ہیں اور اعتکاف میں یہ پابندی مزید تاکید کے ساتھ بڑھ جاتی ہے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ عملاً اور ذہنی طور پر افکار دنیا سے جدا ہو کر متوجہ الی اللہ رہا جائے۔اس بات سے بے نیاز ہو جائے کہ کون کہاں ہے؟ کوئی ہے یا نہیں،بڑا ہے چھوٹا ہے،کوئی کیا کر رہا ہے؟ کیا نہیں؟ اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ آگے اللہ کی مرضی کہ وہ کس کی مزدوری پہ کتنی اجرت عطا فرماتا ہے؟ کون سے درخت پہ کتنا پھل دیتا ہے؟

معتکف گویا ہر لحظہ بارگاہ الوہیت میں حاضر ہے بندہ ہر آن اللہ کے روبرو ہے لیکن وہ اللہ کی طرف سے ہے بندہ تو بے خبراپنے کاروبار میں مگن ہوتا ہے اسے اللہ یاد نہیں ہوتا، اپنے دل اوردماغ میں وہی چیزیں ہوتی ہیں،ذات باری کاتو کوئی تصور بھی نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تو تب بھی ساتھ ہوتا ہے،اللہ تو ہر جگہ موجود ہے،اعتکاف کا مقصد محض ظاہری طور پر قید ہونا نہیں ہے اصل مقصد یہ ہے کہ دل کو غیر اللہ سے خالی کیا جائے،اگراعتکاف میں ظاہری طور پر زبان بند ہولیکن دل امور دنیا میں ہی گردش کرتا رہے، آدمی کے ذہن کو وہی فکریں اور سوچیں رہیں تو فائدہ نہ ہو گا۔چونکہ مقصود یہ ہے کہ دس دن متوجہ اللہ ہو کر وہ قوت حاصل کرے کہ جب واپس امور دنیا میں جائے تو دنیا کے تمام کام کرے لیکن دل اللہ کی طرف متوجہ رہے۔

معتکف جہان سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف متوجہ رہے۔دن ہو یا رات،گرمی ہو یا سردی،جب تک ا س کا اعتکاف مکمل نہیں ہوتااس لئے روئے زمین پر ایک وہ ہے اور ایک اللہ کی ذات کوئی تیسرا بندہ نہیں ہے۔نہ کسی کو سوچے، نہ کسی کی فکر کرے،نہ کسی سے بات کرے تاکہ اللہ کریم وہ کیفیات،وہ یقین اور وہ نور یقین عطا فرمائے ہم نے صرف دن یا ٹوٹل تو پورا نہیں کیا۔مقصد کوئی محض قید گزارنا تو نہیں ہے، اپنے اوپر خواہ مخواہ کی تنگی اور پابندی لگانا تو مقصد نہیں ہے۔مقصد تو وہ نور یقین ہے کہ ہم اللہ کو روبرو پا سکیں۔جیسا حدیث احسان میں ارشاد ہواکہ اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ جرأت تم میں پیدا نہ ہو کہ میں اپنے اللہ کو دیکھ رہا ہوں تو یہ یقین تو کم از کم پیدا کر لو کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔حق تو یہ ہے کہ یہ کیفیت پیدا ہو جائے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں محض سر نہیں پٹک رہا اس کے رو برو رکوع کر رہا ہوں، ہر سجدہ اس کی بارگاہ میں اس کے سامنے ہے۔ نہ صرف عبادات میں بلکہ عملی زندگی میں اُس جمال جہاں تاب کو اپنے ساتھ لے جائے۔ سورۃ الحدید آیت نمبر4 تم جہاں کہیں بھی ہو وہ کریم ذات تمہارے ساتھ ہے۔ساری عملی ز ندگی،وصال الہٰی اور حضور الہٰی میں ڈھل جائے۔

قارئین گرامی اعتکاف کا مقصد حضور بارگاہ کی کیفیت کو پانا ہے۔ اللہ ہم سب کی خطائیں معاف فرما کر،آپ کی کوشش کو بارآور کرے،اعتکاف قبول فرمائے اور اس کے نتائج مرتب فرمائے، دلوں کو اپنی یاد سے منور کرے۔ اعضاوجوارح اورہمارے کردار کو اپنی اطاعت کے سانچے میں ڈھال دے۔

0 comments
bottom of page