top of page

اسلام کی تعلیم و تبلیغ میں نیت کی درستگی،اخلاص نہایت ضروری ہے۔ حافظ عبدالحمید عامر کا تقریب سے خطاب


دین اسلام کی تعلیم و تبلیغ میں نیت کی درستگی اور اخلاص نہایت ضروری ہے۔ حافظ عبدالحمید عامر کا تقریب سے خطاب

دینی تعلیم کا حصول شعائر اللہ کے ادب کا بنیادی تقاضا ہے۔ مولانا بابر صدیق


جہلم (زاہد خورشید) دین اسلام کی تعلیم و تبلیغ میں نیت کی درستگی اور اخلاص نہایت ضروری ہے، ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم حافظ عبدالحمید عامر نے تقریب تقسیم اسناد و انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی مولانا بابر صدیق امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث گوجر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وحی کا علم انسانوں کا اصل مقصود ہونا چاہئے اور دینی تعلیم کا حصول شعائر اللہ کے ادب کا بنیادی تقاضا ہے۔مزید انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت کی خیر علم وحی کے حصول میں ہے اور دنیا میں بھی اصل عزت دین کے علم کو سربلند کرنے والوں کی ہے۔حافظ عبدالحمید عامر نے طلبا کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنے کی وصیت و نصیحت سب سے پہلے میں خود کو کرتا ہوں اور بعد میں آپ سب کو بھی اس کی تلقین کرتا ہوں۔اس تقریب میں طلبا کی سرگرمیوں کو بھی پیش کیا گیا، جن میں سے شہادۃ عالمیہ کے طالب علم حمزہ عبدالغفور نے ”اسلامی معاشرے پر یورپی تہذیب کے اثرات“ اور ثانویہ خاصہ کے طالب علم شامل خان نے ”دینی تعلیم میری ترجیح کیوں؟“ کے موضوع پر خوبصورت انداز میں تقاریر کیں۔ ثانیہ عالیہ کے طالب علم حافظ محمد اقبال نے علم کی فضیلت پر عربی زبان اور عربی لہجے میں بڑی دل آفریں تقریر کی۔ مدیر التعلیم مولانا عکاشہ مدنی نے نتائج کا اعلان کیا اور جامعہ کی کارکردگی کو مختصر الفاظ میں واضح کیا۔ مدیر اُمور داخلی مولانا سعد محمد مدنی نے نقابت کے فرائض سر انجام دیے۔ شعبہ درس نظامی کے خوش نصیب طالب علم عمر ظفر نے جامعہ بھر میں اول، حافظ عثمان اقبال نے دوم اور حافظ اویس کشمیری نے سوم پوزیشن حاصل کی۔ شعبہ حفظ کے خوش نصیب طالب علم حافظ فضل الٰہی نے جامعہ بھر میں اول، حافظ طیب محمود نے دوم اور حافظ محمد شایان نے سوم پوزیشن حاصل کی۔ مثالی طالب علم کا ایوارڈ حافظ قاسم ظفر نے حاصل کیا۔کمروں کی صفائی اور نظم و نسق کے حوالے سے بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ شہر کی اہم سماجی و جماعتی شخصیات نے بھی اس تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی، جن میں ڈاکٹر شاہد تنویر جنجوعہ، ارشد محمود زرگر، صدیق احمد یوسفی، حاجی محمد اشرف،پرنسپل اثریہ ایجوکیشن سسٹم زاہد خورشید، چوہدری محمد آصف، محمد طارق کویتی، محمد طارق ڈھوک صوبیدار، محمد علی اور دیگر شخصیات نمایاں طور پر شامل ہیں۔

0 comments

コメント

5つ星のうち0と評価されています。
まだ評価がありません

評価を追加
bottom of page