top of page

أداب مسجد۔۔۔ قاسم فیوضات مولانامحمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ


أداب مسجد

اصول یہ ہے کہ مسجد میں دنیا کی بات کرنا حرام ہے۔

خواہ آپ سرگوشی میں کریں،خواہ آپ شور کریں

مسجد میں دنیاوی بات کرنا حرام ہے۔

میرے پاس المرشد میں سوال آیا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ساری باتیں مسجد میں ہی ہوتی تھیں۔سارے سیاسی امور بھی مسجد میں نمٹائے جاتے تھے۔جنگ وجدل کی،صلح کی ساری باتیں یہیں ہوتی تھیں تو پھر مسجد میں باتیں کرنے کی ممانعت کیسے؟

یاد رکھو

اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کرتا ہے وہ دین ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کرتے تھے وہ دین ہے،وہ دنیا نہیں ہے۔

ہم نبی نہیں ہیں،ہمیں اتباع کرنا ہے،ایک بات

دوسری بات جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھےسارا دین کے بارےمیں ہوتا تھا۔جو صحابہ عرض کرتے تھے،سارا دین کے بارے تھا۔جو سوال کرتے تھے ،دین تھا۔آج تک ہماری راہنمائی انہی سوالوں سے ہوتی ہے۔بات کرتے تھے تو احکامِ شریعت کے مطابق کرتے تھے۔جہاد ،امورِسلطنت،اللہ کے دین کے مطابق نمٹانا یہ دنیا نہیں،یہ دین ہے۔

خود کو اس جگہ نہ لے جاؤ،

اپنی حیثیت دیکھو۔

ایک دِیا جو وہ بھی بُجھا ہوا ہو وہ یہ کہے کہ سورج ایسا کرتا ہے،میں بھی کروں گا۔

ذات کا دیا ہو اور وہ جل بھی نہ رہا ہو اور وہ سورج کے ساتھ اپنی مثال جوڑے۔

دوبارہ کہہ رہا ہوں سمجھ لو کہ باتیں کرنی ہیں تو باہر جا کر باتیں کر لو،پھر آ جاؤ۔

یہاں کرنی ہیں تو ذکر کے بارے کرو،لطائف کا پوچھو۔کسی سے مراقبات کا پوچھو۔جو شرعی مسئلہ پوچھنا ہے ،سب جائز ہے،

دنیا کی بات حرام ہے۔

آپ کب آئے،کس وقت جانا ہے،کس سواری پہ آئے ہو،کوئی سیٹ ہے تمہارے پاس؟

یہ سارا حرام ہے۔

خواہ آپ سرگوشیوں میں کریں خواہ آپ بلند آواز میں کریں

تو اپنے آپ کو سنبھالیں۔

مسجد میں آئیں تو دنیا باہر رکھ کر آئیں۔ٹیلی فون مسجد سے ہورہی ہیں،موبائل مسجد میں سنے جارہے ہیں،Facebook مسجد میں پڑھی جا رہی ہے۔یہ سب حرام ہے،کوئی روکے نہ روکے۔

حد یہ ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر سیلفیاں بھیجی جا رہی ہیں۔یہ خیال ہی نہیں کہ ہم کس کی بارگاہ میں بیٹھے ہیں؟

کیا حیثیت ہے ان حکمرانوں کی بارگاہ رسالت کے مقابلے میں۔پھر بھی وہاں دیکھیں۔

ڈپٹی کمشنر ایک چھوٹا سا پرزہ ہے حکومت کا۔ضلع کا ایک Head ہے۔کیا اس کے دفتر میں بیٹھ کر گھر سیلفی بھیج سکتے ہیں؟

جرأت کریں گے۔۔کہ یہ دیکھیں یہ ڈی سی صاحب بیٹھے ہیں ،یہ میں بیٹھا ہوں،دوستوں کو بھیجوں؟

تو مسجدِ نبوی سے بھیجنے کی جرأت کیوں کرتے ہیں؟

بیت اللہ سے بھیجنے کی جرات کیوں کرتے ہیں؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ادراک ہی نہیں،

آپ کے لیئے ایک کوٹھا ہے،اوپر غلاف ہے،اللہ اللہ خیر صلا،اور وہاں کچھ بھی نہیں۔۔

مسجد نبوی میں سیلفیاں بھیجنے والوں کے تصور میں ایک مقبرہ ہے اور مسجد ہے،اور کیاہے۔۔سیلفیاں بناؤ اور فوٹو بناؤ،بھیجو

جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہوں ،کوئی بندہ وہاں جائے،کیا وہ سیلفی یا فوٹو بنائے گا۔۔؟

شرعاً روضہ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کا آج بھی وہی ادب ہے جو دنیوی زندگی میں بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔

قبرِ اطہر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ موجود ہیں،یہ اور بات کہ عالم بدل گیا،دنیوی زندگی نہیں ہے۔اس پر دنیا کے احکام وارد نہیں ہوں گے۔

موسم برزخ کا ہو گا،گرمی سردی،دن رات وہ برزخ کے ہوں گے،دنیا کے نہیں۔

عالم بدل گیا

زندگی نہیں بدلی۔

یہ مساجد بھی تو اللہ کا گھر ہیں۔

جسے بات کرنی ہو،مجبوری ہو،ساتھی کو لے کر دروازے کے باہر چلا جائے،بات کر لے پھر آ جائے۔مسجد میں داخل ہوتے وقت ٹیلیفون بند کر دیں،آف کر دیں۔باہر جا کربات کر لیں

مسجد میں کوئی شخص دنیا کی باتیں نہیں کرے اور یہ آپ کے اپنے لیئے ضروری ہے۔

ورنہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

آپ کا یہ آنا جانا سیر سپاٹا رہ جائے گا،حاصل وصول کچھ نہیں ہو گا۔تو کم ازکم اپنی محنت کا تو خیال رکھنا چاہئے۔۔۔

قاسم فیوضات مولانامحمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ

0 comments
bottom of page