top of page

آزادی یا غلامی ۔۔۔تحریر : شفیق بٹ


وطن عزیز کی جو موجودہ حالت ہے وہ کوئی انوکھی نہیں،تاریخ کے اوراق پلٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ مسلمانان برصغیر سے مایوس ہو کر برطانیہ واپس چلے گئے اور وکالت کی پریکٹس شروع کر دی تو ایس ایم اکرام (مصنف آب کوثر،موج کوثر۔۔۔ان کتابوں کو ضرور پڑھیں) جو اس وقت آکسفورڈ میں طالب علم تھے،لکھتے ہیں کہ جب وہ قائد اعظم سے ملے اور کہا کہ آپ نے ہندوستان کیوں چھوڑا جبکہ وہاں کے لوگوں کو آپ کی اشد ضرورت تھی ۔۔اس پر قائد اعظم نے جو الفاظ کہے ان الفاظ کو آج کے حالات کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،فرمایا کہ

1۔۔ہندو قوم یعنی تب کی قیادت ناقابل اصلاح ہے

2۔۔مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ جو جو مسلمان لیڈر انہیں صبح میں ملتا ہے اور جو معاملات میں انکے سامنے رکھتا ہوں وہ رات تک گورنر،ڈی سی،یا کمشنر تک پہنچ چکے ہوتے ہیں،اب ایسی قوم کی قیادت وہ کیونکر کر سکتے ہیں؟؟

کیا ہم بحیثیت مجموعی اس مقام سے ایک انچ بھی آگے بڑھے ہیں؟؟ کیا ہندو کا عمل دخل ہمارے اقتدار کے ایوانوں تک نہیں؟؟ کیا ہماری حساس معلومات محفوظ ہیں؟؟ کیا ہمارے ملک کے سیاہ و سفید کے مالکان اب بھی اپنے سفید فام آقاؤں کی غلامی سے نکل سکے ہیں؟؟؟ ہمارے تمام سیاسی معاملات کہاں طے اور حل کیے جاتے ہیں؟؟ ہماری خارجہ پالیسی سمیت دیگر اہم امور پر فیصلے کون اور کہاں کرتا ہے؟؟ کیا ہمارے ملک کے چلانے والے ایک دوسرے کو غدار وطن قرار نہیں دیتے؟؟ہمارے بڑوں کا اصل مسکن اور وطن کون سا ہے؟؟ جب یہ ملک صرف لوٹنے کیلئے ہے پھر کیسی آزادی اور کہاں کی آزادی؟؟ہم کس منہ سے اپنے آپ کو خود مختار کہتے ہیں جبکہ ہمارے گھر کے تمام مسائل برطانیہ امریکہ سعودی عرب دوبئی والے حل کرتے اور کرواتے ہیں،بے شرمی اور بے حیائی کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی کو تھوڑا سی عزت مستعار مل جائے تو یہاں ڈھول تاشے بجا بجا کر اس کو فخر سے بیان کیا جاتا ہے گویا غلام کو خلعت فاخرہ مل گئی ہو،بہتر ہوتا کہ اس نام نہاد آزادی کی بجائے اوپر مذکورہ کسی ملک کو اپنا ملک ٹھیکے پر دے دیا جائے تو کم از کم آزادی والا ڈھونگ تو ختم ہو،قہر خدا کا دن دیہاڑے لوگوں کی عزت محفوظ نہ جان و مال،فوج محفوظ نہ پولیس،جس کا جب دل کرے ہمارا" گھنٹہ" بجا کر ٹھینگا دکھا کر یہ جا وہ جا،75 سال ہوگئے ہم ابھی تک" نازک موڑ" سے آگے نہ بڑھ سکے۔۔۔ شاید اس کی وجہ خوئے غلامی ہے یا ہم بطور قوم اندر سے مر چکے مگر ہر قسم کے احساسات سے عاری محض زندہ لاشیں جو اپنے تعفن سے اردگرد کو بدبودار بنا رہے ہیں،کیا ہم زندہ قوم ہیں جن کیلے 2023 میں بھی دیوار پر لکھنا پڑتا ہے " یہاں پیشاب کرنا منع ہے" اور اسکے عین نیچے ایک مومن دیوار کو سیراب کر رہا ہوتا ہے۔۔۔

ہم کب بڑے ہونگے اور کب احساس کرینگے کہ ہم واقعی آزاد ہیں؟؟ یہ ہمیں طے کرنا ہے کہ عزت سے جینا ہے یا کمہار کے اس گدھے کی مانند جس کا پاوں بچپن میں کچھ دن رسی سے باندھا جاتا ہے اور پھر تا دم مرگ محض ہاتھ لگایا جاتا ہے اور گدھا سمجھتا ہے کہ وہ بندھا ہوا ہے،لیکن وہ گدھا ہے اور ہم انسان،ایک بار اپنی ٹانگ دیکھیں تو،آپ آزاد ہیں مگر اس آزادی کا احساس نہیں،احساس کیجئے کہ اسی میں ہماری نسلوں کی بقا ہے۔۔


0 comments

Recent Posts

See All

برطانیہ نے ملک میں آنے والے افراد کی تعداد کو محدود کرنے کے لیے اپنے ویزا قوانین میں تبدیلی کردی

(جہلم نیوز رپورٹ)برطانیہ نے ملک میں آنے والے افراد کی تعداد کو محدود کرنے کے لیے اپنے ویزا قوانین میں تبدیلی کردی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے کہا ہے کہ 2022 م

دینہ (رانا محمد عاصم سے)تحصیل دینہ کے گاؤں چھنی گجراں کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت ماسٹر چودھری عبدالرشید کی اہلیہ محترمہ گاؤں چھنی گجراں میں انتقال کر گئیں

دینہ (رانا محمد عاصم سے)تحصیل دینہ کے گاؤں چھنی گجراں کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت ماسٹر چودھری عبدالرشید کی اہلیہ محترمہ، چودھری محمد عثمان، چودھری محمد عمر کی والدہ ماجدہ ،ہیڈ کانسٹیبل پنجاب پولیس چ

Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
bottom of page