top of page

آدابِ اعتکاف............ تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان


آدابِ اعتکاف

تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان

اللہ کریم کا احسان ہے کہ اُس نے رمضان المبارک کامہینہ نصیب فرمایا۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس میں اللہ کی رحمت حاصل کی اللہ کی بخشش کی طرف لپکے اور دوزخ سے رہائی کا پروانہ حاصل کیا۔بنیا دی طور پر رمضان کریم انسان میں ملکوتی صفات پیدا کرنے کا ذریعہ ہے کہ اس میں فرشتوں جیسی صفات پیدا ہو جائیں۔دن بھر کھائے پیے نہیں۔نفس کی کوئی خواہش پوری نہ کرے۔فالتو باتیں نہ کرے،نہ کوئی فضول باتیں سنے،نہ کوئی فضول کام سوچے۔ذکر الہٰی کثرت سے کرے تلاوت کر ے،درود شریف پڑھے۔یعنی دنیا میں رہتے ہوئے خود کو میدانِ حشر میں محسوس کرے۔

اعتکاف ایک خاص عبادت اور نبی کریم ﷺکی خاص سنت ہے۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ بندہ خود کو سمجھ لے کہ میں دنیا سے گزر چکا ہوں کسی کے ساتھ رابطہ نہیں ہے بات نہیں کرنی،کاروبار کے بارے نہیں پوچھنا،غرض دنیا کے کسی کام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے سوائے عبادت الہٰی کے۔ہاں! ضروری بات کرنے کی اجازت ہے۔

بعض لوگ اتنا تشدد کرتے ہیں کہ کوئی چیز چاہیے،کتاب بھی چاہیے تو پرچی پر لکھ کر دیتے ہیں۔کہ وہ کتاب پکڑا دو۔یہ درست نہیں ہے،یہ بھی مکروہ ہے۔ضرورت کی بات کرے اور ضرورت شرعی ہو اور بات اتنی کرے جتنی ضرورت ہو۔آج کل کا ایک بڑا مسئلہ موبائل فون ہے۔ہر بندے کے پا س چار چار موبائل بندھے ہوئے ہیں اعتکاف بیٹھیں تو موبائل بند ہوں۔اور عید کا چاند نظر آنے تک بند رہیں۔بغیر ضرورت کے مسجد سے باہر نہیں جائیگا۔وضو کرنے جائے تو راستے میں کسی سے بات نہ کرے۔

اسلام میں دنیا اور آخرت دونوں ساتھ ساتھ چلتی ہیں آخرت کے لیے الگ سے کوئی شعبہ ہے تو عبادت کا ہے لیکن آخرت کے لیے بھی اہم کام جو ہے وہ دنیا ہی کا ہے کہ دنیا کے کام اللہ کی اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت میں اور آپ ﷺ کے احکام کے مطابق کیے جائیں۔اسی پر آخرت کمائی جائے۔اسلام میں ترکِ دنیا نہیں ہے کہ آپ دنیا چھوڑ کر گوشہ نشین ہو جائیں۔آخرت کا مدار دنیا کو دین کے مطابق استعمال کرنے اور چلانے پر منحصر ہے اور اُس نیت پر منحصر ہے کہ دنیا کے کام سے بھی آخرت مراد ہو،نہ یہ کہ دین کا کام بھی کرتے ہیں تو اللہ کی عظمت کا احساس ہو،نبی کریم ﷺ کی شریعت کا خیال ہو کہ میں اس کے مطابق کروں تاکہ میر ی آخرت سنور جائے۔اگر آدمی دین کا کام بھی اس لیے کرے کہ دنیا آجائے،لوگ مجھے بزرگ سمجھیں،لوگ مجھے نیک کہیں لوگوں میں میری شہرت ہو۔

اعتکاف کی بنیا دیہ ہے کہ ان دس دنوں میں معتکف یہ سمجھے کہ میں دنیا سے رخصت ہو چکا ہوں،کاروبار بھی پیچھے رہ گئے،مصروفیا ت بھی پیچھے رہ گئیں،آل اولاد دوست احباب سب سے کٹ گیا۔میں اپنی قبر میں ہوں اور مجھے آخرت کا حساب دینا ہے تو تب جا کر اعتکاف بنتا ہے اور اگر اس کے ساتھ بھی دنیا ہی کی چیزیں ملانی ہوں تو خواہ مخواہ بندہ پھر دس دن پردیس کیوں رہے اور بھوکا پیاسا کیو ں رہے۔اعتکاف فرض تو ہے نہیں سنت ہے لیکن جب ایک بار بیٹھ جائیں پھر فرض ہو جاتا ہے۔جونہی آپ نے نیت کرلی تو پھر آپ پر فرض ہوگیا۔اور اس کا پورا کرنا فرض ہے۔اور جتنی کوشش ہو سکے،کی جانی چاہیے کہ پورے خلوص اور خشو ع خضوع کے ساتھ اعتکاف پورا ہو،اللہ کریم پورا فرمائیں۔روح کی حیات اور صحت کے لیے یہ بہت بڑا اور عظیم نسخہ ہے کہ جسمانی تعلقات،دماغی اور ذہنی افکار،ہر چیز سے آزاد ہو کر آدمی صرف روح کو پاکیزہ کرنے کی اور روح کو قوی کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔روح کمزور ہو جائے تو آدمی کا کردار بدل جاتا ہے،درست نہیں رہتا،غلط کار ہو جاتا ہے۔اور یہ کردار کی تبدیل اگر بڑھتی جائے تو اُس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایمان ہی ختم ہو جائے اور بندے کا خاتمہ ایمان کے بغیر اور کفر پر ہو۔اگر یہ احتیاط کی جائے کہ اس خار زار میں چلتے ہوئے دامانِ رسالت ﷺ کو تھاما جائے توپھر روح طاقتور ہوتی ہے اور روح جتنی طاقتور ہو اتنا اطاعت الہٰی کو دل چاہتا ہے۔گنا ہ سے نفرت ہو تی ہے اور بندہ گناہ سے ڈر تا ہے۔تو ان امور میں اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ اس اعتکاف میں مجھ میں کیا مثبت تبدیلی آئی میری روح کتنی طاقتور ہے،مجھے اللہ کی نافرمانی سے کتنی نفرت ہوئی،مجھے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے اتباع سے کتنی محبت ہوگئی اور میری عملی زند گی،میرا نظریہ میرا عقیدہ کس قدر مضبوط ہوا،اس میں کس قد ر قو ت آئی۔یہ اس چیز کا حاصل ہے۔انسان مجاہد ہ کرتا ہے کہ اس جو خطائیں ہوئی ہیں عنداللہ اُن کی معافی مل جائے جوچھوٹی موٹی نیکیاں ہیں اللہ قبول فرما لے،ہدایت نصیب فرما دے۔نیکی اور بھلے پر قائم کر دے۔اسکی آخرت سنور جائے جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔بلکہ وہ اس قابل ہو جائے کہ وہ کئی دوسرے لوگوں کو بھی بچاسکے اور نیکی کی طرف لاسکے۔اب یہ آپ کی ہمت ہے کہ آپ اس میں کتنا سمیٹتے ہیں کتنے خلوص سے اس طرف متوجہ ہیں۔اور کتنی محنت کرتے ہیں جتنی محنت کریں گے اس سے زیادہ ان شاء اللہ،اللہ کریم کی طرف سے زیادہ عطاء ہو جائیگا۔یہ اس کی شان ہے بندہ ایک مجبور وبے بس اکائی ہے کیا کرلے گا؟ لیکن بندہ جو کچھ کرتا ہے اس سے بے شمار گنا زیادہ وہ عطاکرتا ہے۔بندہ اپنی حیثیت کے مطابق کرتا ہے وہ اپنی شان کے مطابق عطاکرتا ہے۔تو نظر اس پر رہے اور پوری احتیاط کے ساتھ اپنے یہ دن جو اللہ کریم نے نصیب فرمائے ہیں،نو دن ہیں یا دس دن ہیں،انتیس رمضان کو اگر چاند ہو گیا تو نودن ہوگئے،تیس کو ہوا تو دس دن ہو گئے۔تو اللہ نے جس طرح اس میں شریک ہونے کی اور اعتکاف بیٹھنے کی توفیق بخشی ہے اسی طرح اسے مکمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔اللہ کریم ہیں وہ بندے کی طلب سے زیادہ دیتے ہیں۔بندے کی اپنی نیت میں بھی خلوص ہونا چاہیے اور پوری شرائط کے ساتھ اسے ادا کرے۔اللہ کریم آپکی محنت قبول فرمائے سب کو بہترین ثمرات عطا فرمائے

0 comments

Commentaires

Noté 0 étoile sur 5.
Pas encore de note

Ajouter une note
bottom of page